نئی دہلی،27فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر کو کولکاتہ کے سابق پولیس کمشنر راجیو کمار کے خلاف شاردا چٹ فنڈ کیس میں ثبوت پیش کرنے کو کہا ہے۔کورٹ نے کہا ہے کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر دو ہفتے کے اندر اندر حلف نامہ پیش کریں کہ راجیو کمار نے شاردا معاملے میں کال ڈیٹا کے ریکارڈ (سی ڈی آر) سے چھیڑ چھاڑ کی ہے۔عدالت کے حکم پر شاردا معاملے کی تحقیقات کر رہی سی بی آئی نے راجیو کمار کے خلاف عدالت کی توہین کی اپیل کی ہے۔سپریم کورٹ نے سی بی آئی سے پوچھا کہ اگر ایجنسی کو یہ معلومات 28 جون 2018 سے کی راجیو کمار نے سی ڈی آر سے چھیڑ چھاڑ کی ہے تو سی بی آئی اتنے دنوں تک سی بی آئی کیا کرتی رہی۔کورٹ نے کہا کہ عدالت اٹارنی جنرل اور سالیسٹر جنرل کی زبانی دلیل پر کارروائی نہیں کر سکتی کہ راجیو کمار نے نامکمل اور غلط سی ڈی آر جمع کرایا۔کورٹ نے کہا کہ جو جون 2018 میں ہوا اس کا پتہ عدالت کو فروری 2019 میں چلا، کیا سی بی آئی کو اس معاملے میں کورٹ کو اعتماد میں نہیں لینا چاہئے تھا،لہذا سپریم کورٹ نے سی بی آئی ڈائریکٹر کو حلف نامہ پیش کرنے کے لئے 2 ہفتے کا وقت دیا ہے۔
شاردا چٹ فنڈ معاملے کی تحقیقات کر رہی سی بی آئی کا الزام ہے کہ کولکاتہ کے سابق پولیس کمشنر راجیو کمار نے ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کی ہے۔بتا دیں کہ سال 2013 میں شاردا معاملہ سامنے آنے پر وزیر اعلی ممتا بنرجی نے تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل کی تھی، راجیو کمار کو اس کا سربراہ بنایا گیا تھا لیکن بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر معاملہ سی بی آئی کو سونپ دیا گیا۔بتا دیں کہ سی بی آئی کی ٹیم 3 فروری کو شاردا گھوٹالے کے معاملے میں راجیو کمار سے پوچھ گچھ کے لئے کولکاتہ پہنچی تھی لیکن کولکاتہ پولیس نے سی بی آئی کی ٹیم کو راجیو کمار کی رہائش میں گھسنے کی اجازت نہیں دی۔